مون سون اور ٹیگور

مون سون، سمندروں کی سطحوں سے لے کر ہمالیہ کی بلند ترین چوٹیوں تک، کبھی اپنا راستہ نہیں بھولتا وہ ہر بار، یوں ہی، بار بار لوٹ آ ہے

ہر مون سون میں، میں رابندر ناتھ ٹیگور کی وہی پرانی کہانیوں کا ڈرامائی سلسلہ دیکھتا ہوں، وہی فضائیں، وہی ہوائیں، وہی جذبے، جو ہر سال ایک نئی نمی کے ساتھ پلٹ آتے ہیں۔
یہ کہانیاں، جو کوئی ایک صدی پہلے لکھی گئیں
آج بھی ویسی ہی محسوس ہوتی ہیں ان میں ویسا ہی انسانی درد، ویسی ہی سمجھوتوں کی مہک
اور ویسی ہی باہمی چاہت کی گونج سنائی دیتی ہے۔
جیسے مون سون جس کے بادل ہر بار اسی گرج کے ساتھ آتے ہیں، پانی ویسے ہی کھنک کر گرتا ہے، کہیں خامشی میں آنکھیں بھیگتی ہیں، کہیں ہوا بیباک سرگوشیاں کرتی ہے وہی جھونکے، وہی نمی، وہی آوازیں۔ نہ وقت ان کو پرانا کرتا ہے، نہ جذبات ان میں مدھم ہوتے ہیں۔
یہ کہانیاں بھی مون سون کی طرح تازہ، اور زندگی سے لبریز رہتی ہیں۔
ٹیگور کے بنگال میں وہ کردار، جن کی آنکھوں میں جذبوں کی نمی ٹھہری ہوتی ہے، مگر وجود آہن جیسے مضبوط۔
اور وہ آنگن، جن پر بارش برستی ہے شاید نہ جانے کتنی بلکتی راتوں کو خامشی کا سہارا دیتی ہے۔۔۔
راتیں، جنہیں ٹیگور سنتے رہے
اور پھر لفظوں میں ڈھالتے رہے
ظہیر چوھدری
جولائی ٢٠٢٥ برسات


By Zaheer Chaudhry

No comments:

5. Contact

CONTACT:  Dubai +971 58 629 7570  Pakistan   +92 333 4319807 email: zaheerchaudhry.zc@gmail.com Social media: Facebook - Instagram - X Mai...